Need another language?
முதுமைக்கால மறதி நோய் (டிமென்ஷியா) என்றால் என்ன?
டிமென்ஷியா என்பது சாதாரண வயதானதன் ஒரு பகுதி மட்டுமல்ல. இது அல்சைமர் போன்ற நமது மூளையைப் பாதிக்கும் நோய்களால் ஏற்படுகிறது.
ડિમેન્શિયા એટલે શું?
બધા જ વૃદ્ધ લોકોને ડિમેન્શિયા નથી થતું. ડિમેન્શિયા અનેક બીમારીઓને કારણે થાય છે.
ਮਨੋਰੋਗ ਕੀ ਹੈ?
ਮਨੋਰੋਗ ਕੋਈ ਇਹੋ ਜਿਹੀ ਚੀਜ਼ ਨਹੀਂ ਹੈ ਜੋ ਹਰੇਕ ਵਿਅਕਤੀ ਨੂੰ ਉਸ ਦੀ ਉਮਰ ਵਧਣ ਕਾਰਨ ਹੁੰਦਾ ਹੈ। ਇਹ ਵੱਖ-ਵੱਖ ਬਿਮਾਰੀਆਂ ਕਰਕੇ ਹੁੰਦਾ ਹੈ।
ڈیمینشیا کوئی ایسا عارضہ نہیں جو بس ہر بوڑھے ہونے والے شخص کو لاحق ہوجائے۔ مختلف بیماریاں اسکی وجہ بنتی ہیں۔
ڈیمنشیا کیا ہے؟
ہمارا دماغ ہر اس چیز کو کنٹرول کرتا ہے جو ہم سوچتے، محسوس کرتے، یاد کرتے اور سرانجام دیتے ہیں۔
ایسی بیماریاں موجود ہیں جو انسان کے دماغ کو ٹھیک سے کام کرنے سے روکتی ہیں۔ جب کسی شخص کو ان میں سے کوئی بیماری ہوتی ہے، تو اسے سوچنے، یاد رکھنے اور بولنے میں مسائل ہو سکتے ہیں۔ وہ ایسی چیزیں کہہ سکتے ہیں یا کر سکتے ہیں جو دوسروں کو عجیب لگتی ہیں، اور انہیں روزمرہ کے کاموں کو کرنا مشکل لگتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اس شخص کی طرح نہ لگیں جو وہ پہلے تھے۔
جب یہ مسائل وقت کے ساتھ ساتھ بدتر ہوتے جاتے ہیں، تو ڈاکٹر ان کو بیان کرنے کے لیے ڈیمنشیا کا لفظ استعمال کر سکتے ہیں۔
ایسا نہیں کہ ڈیمنشیا ہر ہر کسی کو عمر بڑھنے کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ یہ مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں دماغ کے مختلف حصوں کو متاثر کرتی ہیں، اس لیے یہ لوگوں کو مختلف طریقوں سے متاثر کرسکتی ہیں۔
ڈیمنشیا سے کون متاثر ہوتا ہے؟
ڈیمنشیا کسی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
برطانیہ میں تقریباً 1,000,000 افراد ڈیمنشیا میں مبتلا ہیں۔
یوکے میں ڈیمینشیا مردوں سے زیادہ خواتین کو لاحق ہے۔
75سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ڈیمنشیا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، لیکن یہ نوجوان لوگوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
ڈیمنشیا کسی کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
ہم میں سے اکثر افراد چیزیں وقتاً فوقتاً بھول جاتے ہیں، جیسے کہ ہم نے اپنی چابیاں کہاں رکھی تھیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں ڈیمنشیا ہے۔ جب کسی کو ڈیمینشیا ہوتا ہے، تو علامات آہستہ آہستہ بدتر ہوتی جاتی ہیں، یہاں تک کہ یہ روزمرہ کی زندگی کو مشکل بنادیتی ہے ۔
تاریخ یا دن کے وقت کے بارے میں پریقین نہ ہونا۔
حالیہ واقعات، نام اور چہروں کو بھول جانا۔
کھو جانا، زیادہ تر ان جگہوں پر جو نئی ہوں۔
مختصر وقت میں وہی سوالات متعدد بار پوچھنا۔
صحیح الفاظ استعمال کرنے یا دوسرے لوگوں کے الفاظ کو سمجھنے میں مشکل ہونا۔
چیزوں کو غلط جگہ پر رکھنا۔
کسی شخص کے محسوس کرنے اور برتاؤ کرنے میں تبدیلی، جیسے اداس یا آسانی سے ہی پریشان ہو جانا، یا چیزوں میں دلچسپی کھو دینا۔
توجہ دینا یا آسان فیصلے کرنے میں مشکل محسوس کرنا۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
ڈاکٹر اور سائنسدان ڈیمینشیا کے بارے میں مزید جاننے کے لیے بھرپور جستجو کر رہے ہیں بشمول اس کی وجوہات کے۔
کچھ لوگوں کو ڈیمنشیا ہونے کا امکان دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتا ہے، جیسے وہ لوگ جنہیں فالج ہوا ہو، یا جنہیں مندرجہ زیل عارضے لاحق ہوں:
ذیابیطس
بلند فشار خون
کولیسٹرول کی بلند سطح
ذہنی دباؤ
کیا کوئی علاج موجود ہے؟
اس وقت ایسی کوئی دوائیں نہیں ہیں جو ڈیمنشیا کا علاج کر سکیں۔
ایک بار جب کسی شخص کو ڈیمنشیا ہو جاتا ہے، تو وہ اسے تا حیات رہے گا۔ بلکہ ان کی حالت وقت کے ساتھ بدتر بھی ہوتی جائے گی۔
کچھ دوائیں ایسی ہیں جو روزمرہ کی زندگی کو قدرے آسان بنا کر تھوڑی عرصے کے لیے مدد کر سکتی ہیں۔ ایسی گروہی سرگرمیاں بھی ہو سکتی ہیں جن میں لوگ حصہ لے سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی علامات کے ساتھ بہتر زندگی گزار سکیں۔ آپ آپ کا ڈاکٹر آپ کو اس بارے میں مزید معلومات فراہم کر سکتا ہے۔
کیا میں اپنے آپ کو ڈیمنشیا ہونے سے روک سکتا ہوں؟
کسی شخص کو بھی ڈیمنشیا ہونے سے روکنے کا کوئی یقینی طریقہ نہیں ہے، لیکن ایسی چیزیں ہیں جو ہم کر سکتے ہیں جن سے اس بات کا امکان کم ہو سکتا ہے کہہم ڈیمنشیا میں مبتلا ہوں ۔
کافی مقدار میں پھلوں اور سبزیوں سےبھر پور متوازن غذا کھائیں۔
اپنے ڈاکٹر سے اپنے دل کی صحت کی جانچ کروائیں ، بشمولبلڈ پریشر اور کولیسٹرول، اور اگر وہ بہت زیادہ ہیں تو اس کے مشورے پر عمل کریں۔
اپنے دماغ کا استعمال جاری رکھیں – سرگرمیوں یا سماجی گروہوں کے ذریعے جن سے آپ لطف اندوز ہوتے ہیں۔
اگر آپ کو ذیابیطس ہے تو اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کریں۔
متحرک رہیں اور کوشش کریں کہ زیادہ وقت بیٹھ کر نہ گزاریں۔
تمباکو نوشی سےپرہیز کریں۔
فی ہفتہ شراب کے 14یونٹ سے کم پئیں۔
اپنے وزن کو صحت مندانہ حد میں رکھیں۔
اپنی سماعت اور بینائی کا باقاعدگی سے معائنہ کروائیں اور اگر تجویز کیا گیا ہو تو کسی بھی علاج پر عمل کریں۔
دنیا اور اپنے آس پاس کے لوگوں سے جڑے رہیں۔
مدد کے لیے کہاں جائیں
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے کسی جاننے والے کو ڈیمنشیا ہو سکتا ہے، تو اسے اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کی ترغیب دیں۔ ڈاکٹر چیک کرے گا کہ ان کے مسائل کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات، اس شخص کو دوسرے ڈاکٹر کے پاس بھیجا جا سکتا ہے جو اسے بتا سکتا ہے کہ آیا اسے ڈیمنشیا ہے۔ اگر آپ کے رشتہ دار یا دوست کہیں، تو آپ ان کے ساتھ جا سکتے ہیں۔
اگر ڈاکٹر کوئی ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں آپ کو یقین نہیں ہے، تو آپ ان سے وضاحت کے لیے کہہ سکتے ہیں۔
بعض دیگر مفید اداروں کی رابطہ تفصیلات یہ ہیں
Admiral Nurses ڈیمینشیا میں مبتلا افراد اور انکے گھر والوں کو عملی مشورے، معاونت اور تجاویز مہیا کرتے ہیں۔
0800 888 6678
Alzheimer's Society معلومات، مدد اور مقامی معاونتی گروپس تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ ترجمے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
0333 150 3456
Alzheimer Scotland اسکاٹ لینڈ میں موجود افراد کو معاونتی خدمات، معلومات اور مشورے فراہم کرتی ہے۔
0808 808 3000
ہ کتابچہ نومبر 2024 میں اپ ڈیٹ کیا گیا تھا اور اس پر نظرثانی نومبر 2026 میں کی جائے گی
Dementia Research Infoline
0300 111 5111
infoline@alzheimersresearchuk.org
ڈیمینشیا سے متعلق تحقیق اور شمولیت کے بارے میں سوالات؟
ہمیں پیر تا جمعہ صبح 9 سے شام 5 بجے تک کال کیجیے۔
کالیں راز میں رکھی جاتی ہیں اور ترجمے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔