ڈیمینشیا کے متعلق فوری معلوماتی ہدایت نامہ

ڈیمینشیا کوئی ایسا عارضہ نہیں جو بس ہر بوڑھے ہونے والے شخص کو لاحق ہوجائے۔ مختلف بیماریاں اسکی وجہ بنتی ہیں۔

ڈیمینشیا کیا ہے؟

ہمارا دماغ تقریباً ہر اس چیز کو کنٹرول کرتا ہے جو ہم سوچیں، محسوس کریں، بولیں یا کریں۔ دماغ ہماری یادوں کو ہمارے لیے محفوظ بھی کرلیتا ہے۔

بعض بیماریاں کسی شخص کے دماغ کو درست طور پر کام کرنے سے روک دیتی ہیں۔ جب کسی شخص کو ان میں سے کوئی بیماری ہوجائے تو اسے یاد رکھنے، سوچنے اور بول چال میں مسائل پیش آنے لگتے ہیں۔ ایسے افراد کچھ ایسی باتیں کہنے اور کام کرنے لگتے ہیں جو دوسروں کو عجیب سے لگیں، اور انہیں اپنے روزمرہ کے معمولات میں بھی زیادہ مشکل ہونے لگتی ہے۔ ممکن ہے اب وہ ویسے لگیں ہی نہ جیسے پہلے ہوا کرتے تھے۔

ڈاکٹر ان مختلف مسائل کو بیان کرتے ہوئے ڈیمینشیا کا لفظ استعمال کیا کرتے ہیں۔

ڈیمینشیا میں مبتلا زیادہ تر افراد ک الزیمر کا مرض یا
‘ویسکیولر ڈیمینشیا’
لاحق ہوتا ہے تاہم اسکی دیگر اقسام بھی موجود ہیں

 

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

ڈیمینشیا کوئی ایسا عارضہ نہیں جو بس ہر بوڑھے ہونے والے شخص کو لاحق ہوجائے۔ مختلف بیماریاں اسکی وجہ بنتی ہیں۔

یہ عوارض ایسی بیماریاں ہیں جو دماغ کے مختلف حصوں کو متاثر کرتی ہیں، چنانچہ وہ مختلف افراد کو مختلف طریقوں سے متاثر کرتی ہیں۔

فی الحال ہم یہ نہیں جانتے کہ کسی ایک شخص کو ان میں سے کوئی بیماری کیوں ہوئی جبکہ دوسرے شخص کو کیوں نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر اور سائنسدان ڈیمینشیا کے بارے میں مزید جاننے کے لیے بھرپور جستجو کر رہے ہیں۔

 

ڈیمینشیا کسی شخص کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟

ہم میں سے زیادہ تر افراد وقتاً فوقتاً کچھ بھول ہی جایا کرتے ہیں، مثلاً چابیاں کہیں رکھ کر بھول جانا۔ لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں ڈیمینشیا ہی ہے۔ ڈیمینشیا کی علامات آہستہ آہستہ خراب تر ہوتی جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ ہماری روزمرہ زندگی کے معمولات میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔

جب کسی شخص کو ڈیمینشیا ہونے لگے تو ممکن ہے آپکو مندرجہ ذیل میں سے کچھ ہوتا ہوا نظر آنے لگے:

ابھی حال ہی میں ہونے والے واقعات کو بھول جانا، یا نام اور چہرے بھولنا۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد بار بار ایک ہی جیسے سوالات پوچھنا۔

چیزوں کو غلط جگہ رکھ دینا۔
توجہ قائم رکھنے یا سادہ فیصلے کرنے میں مشکل پیش آنا۔

تاریخ یا وقت کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کا شکار رہنا۔
راستہ بھول جانا، زیادہ تر ایسی جگہوں پر جو نئی ہوں۔

خود درست الفاظ استعمال کرنے یا دوسروں کے الفاظ کو سمجھنے میں مشکل پیش آنا۔
احساسات میں تبدیلی، مثلاً فوراً اداس ہونا یا معمولی سے بات پر چڑ جانا، یا چیزوں میں دلچسپی کھو بیٹھنا۔

جوں جوں ڈیمینشیا زیادہ بگڑتا ہے تو اس میں مبتلا افراد کو صاف صاف بولنا اور اپنی ضروریات اور احساسات آپکو بتانا مشکل لگنے لگتا ہے۔ ممکن ہے انہیں کھانے پینے، نہانے، لباس تبدیل کرنے اور بغیر مدد کے ٹوائلٹ جانے میں بھی مشکل ہونے لگے۔

 

ڈیمینشیا سے کون متاثر ہوتا ہے؟

ڈیمینشیا بہت عام عارضہ ہے۔

یوکے میں روزانہ تقریباً600 افراد کو ڈیمینشیا ہو جاتا ہے۔

یوکے میں ڈیمینشیا مردوں سے
زیادہ خواتین کو
لاحق ہے۔

65 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں ڈیمینشیا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، تاہم اس سے کم عمر کے افراد بھی اس میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

 

کچھ لوگوں کو ڈیمینشیا ہونے کا امکان دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، مثلاً جنہیں فالج وغیرہ جیسی کوئی تکلیف ہوئی ہو یا جنہیں مندرجہ ذیل عوارض لاحق ہوں:

  • ذیابیطس
  • بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر)
  • کولیسٹرول کی زیادتی
  • ڈپریشن۔

 

کیا اسکا کوئی علاج ہے؟

فی الحال ڈیمینشیا کا کوئی علاج موجود نہیں ہے۔ جب کسی شخص کو ڈیمینشیا ہوجائے تو پھر باقی پوری زندگی اسے لاحق رہتا ہے۔


بعض ایسی دوائیں ہیں تو جو وقتی فائدہ دیتی اور روزمرہ زندگی کے معمولات میں کچھ آسانیاں پیدا کردیتی ہیں۔ ایسی گروہی سرگرمیاں بھی ہیں جن میں شامل ہوکر لوگوں کو ان علامات کے ساتھ بہتر زندگی گذارنے میں مدد مل سکتی ہے۔ آپکا ڈاکٹر اس بارے میں آپکو مزید معلومات فراہم کردے گا۔

بدقسمتی سے ایسی کوئی دوا نہیں جو ان بیماریوں کو روک سکے، چنانچہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی کیفیت مزید خراب ہوتی رہے گی۔

 

کیا میں خود کو ڈیمینشیا ہونے سے بچا سکتا ہوں؟

خود کو ڈیمینشیا سے بچانے کا کوئی یقینی طریقہ تو موجود نہیں، تاہم آپ کچھ ایسے کام ضرور کرسکتے ہیں جن سے آپکا اس میں مبتلا ہونے کا امکان کم ہوسکتا ہے-

اپنے ڈاکٹر سے کہیں کہ وہ آپکے دل کی صحت، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کا معائنہ کرے، اور اگر یہ حد سے بڑھے ہوئے نکلیں تو انکے مشورے پر عمل کریں۔
اگر آپکو ذیابیطس ہے، تو اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کریں۔

سگریٹ نوشی نہ کریں۔
متوازن غذا کھائیں جس میں پھل اور سبزیاں بھرپور مقدار میں شامل ہوں۔

اپنا وزن تندرستی والا رکھیں۔
چلتے پھرتے رہیں اور مصروف رہیں اور بہت دیر تک بیٹھے نہ رہیں۔

اپنے دماغ کو استعمال کرتے رہیں – ان سرگرمیوں اور سوشل گروپوں میں شامل ہو کر جن میں آپکو مزہ آتا ہے۔
ایک ہفتے میں شراب کے 14 یونٹوں سے زیادہ نہ پئیں۔

 


یہ کتابچہ مارچ 2017 میں تحریر کیا گیا
نظرثانی نومبر 2018 میں ہوگی